ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شاہ نورانی کے مزار پر دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

شاہ نورانی کے مزار پر دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

Mon, 14 Nov 2016 10:31:22    S.O. News Service

کراچی ،13؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستانی صوبہ بلوچستان میں شاہ بلال نورانی کے مزار پر گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔ دوسری طرف دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر52تک پہنچ گئی ہے۔ہفتہ12نومبر کی شام میں ہونے والے اس خودکش دھماکے کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد100سے زائد ہے۔ صوبہ بلوچستان کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار عبدالرسول نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایاکہ امدادی ٹیمیں زخمیوں اورہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں منتقل کر رہی ہیں تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مزار صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 350 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں واقع بلال شاہ نورانی پر یہ دھماکا گزشتہ شام اُس وقت ہوا جب زائرین کی ایک تعداد وہاں دھمال ڈال رہے تھے اور لوگوں کا ایک ہجوم وہاں جمع تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔دہشت پسند گروپ داعش سے تعلق رکھنے والی نیوز ایجنسی اعماق میں اس گروپ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خودکش حملے کا نشانہ شیعہ تھے۔ تاہم بلال شاہ نورانی کے مزار پر سنی مسلمان اور شیعہ مسلمان دونوں ہی جاتے ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق علاقے میں موبائل فون نیٹ ورک نہ ہونے کے سبب مکمل صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی تاہم جس مقام پر یہ دھماکا ہوا وہاں تقریباََ 500افراد جمع تھے۔ پاکستانی فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل محمد جنید نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔بلوچستان میں یہ دھماکا ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب وہاں چین کے تعاون سے تعمیر کردہ گہرے پانی کی بندرگاہ گوادر کا آج اتوار 13 نومبر کو باقاعدہ افتتاح ہو رہا ہے۔ افتتاحی تقریب میں پاکستانی وزیراعظم کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی بھی اس تقریب میں شرکت متوقع ہے۔دھماکے کے بعد گزشتہ شب دیر گئے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی منتقل کیا گیا جو اس مقام سے تقریباََ 200کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کراچی کے صرف سول ہسپتال میں 26 لاشوں اور 50کے تقریباََ زخمیوں کو لایا گیا۔دھماکے کے بعد پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ چار فوجی میڈیکل ٹیمیں اور آرمی کی 45 ایمبولینسوں کو دھماکے کے مقام کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔


Share: